جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
حالتِ قیام میں دونوں پیروں کے درمیان فاصلہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں ؟
کہ نماز کے قیام میں دو پیروں کے درمیان فاصلہ، کسی صحیح یا ضعیف حدیث سے ثابت ہے؟-
حالتِ قیام میں دونوں پیروں کے درمیان فاصلہ رکھنے سے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار مذکور ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں پاؤں کو ملا کر کھڑا ہونا خلافِ سنت ہے، اور دونوں پاؤں کے درمیان معتدل فاصلہ رکھا جائے، نہ بہت کم ہو، اور نہ ہی بہت زیادہ ہو؛ تاکہ بلا تکلف کھڑا ہو، اور نماز میں خشوع و خضوع رہے۔ احناف نے اس کی مقدار ہاتھوں کی چار انگلیاں بیان کی ہے۔
لما فی مصنف عبد الرزاق الصنعاني:
"عن أبي عبيدة قال: مر ابن مسعود برجل صاف بين قدميه، فقال: «أما هذا فقد أخطأ السنة، لو راوح بهما كان أحب إلي»"(265/2)
وفی مصنف ابن أبي شيبة:
" عن عيينة بن عبد الرحمن، قال: كنت مع أبي في المسجد، فرأى رجلاً صافاً بين قدميه، فقال: «ألزق إحداهما بالأخرى، لقد رأيت في هذا المسجد ثمانية عشر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، ما رأيت أحداً منهم فعل هذا قط»".(109/2)
وفی تبيين الحقائق :
"وقال الكمال: وينبغي أن يكون بين رجليه حالة القيام قدر أربع أصابع".(114/1)
وفی مراقي الفلاح:
"و" يسن "تفريج القدمين في القيام قدر أربع أصابع"؛ لأنه أقرب إلى الخشوع"(98/2)
وفی الدر مع الرد:
"وينبغي أن يكون بينهما مقدار أربع أصابع اليد؛ لأنه أقرب إلى الخشوع، هكذا روي عن أبي نصر الدبوسي إنه كان يفعله، كذا في الكبرى".(444/1)