جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
گرمیوں میں لکڑیاں خریدکر سردیوں میں مہنگی فروخت کرنے کا حکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں!
کہ گرمیوں میں لکڑیاں خرید کر گودام میں رکھ لینا اور سردی میں جب لکڑی کے ریٹ بڑھ جائیں تو فروخت کرنا جائز ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ جن چیزوں میں درج ذیل صفات پائی جائیں ان کی ذخیرہ اندوزی منع ہے:
(1) وہ چیز عرف عام میں انسان یا جانور کی غذا کے طور پر استعمال ہوتی ہو۔
(2) یہ اشیاء ایسے مقامات سے خریدی گئی ہوں جن کی پیداوار اس شہر میں آتی ہو۔
(3) ان کو ذخیرہ کرنے میں شہر والوں کو نقصان پہنچتا ہو۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں گرمیوں میں لکڑیاں خرید کر گودام میں رکھنا اور پھر سردیوں میں بازاری قیمت بڑھنےمہنگے دام فروخت کرنا جائز ہو گا۔
لمافی الھندیة:
"الاحتكار مكروه وذلك أن يشتري طعاما في مصر ويمتنع من بيعه وذلك يضر بالناس كذا في الحاوي، وإن اشترى في ذلك المصر وحبسه ولا يضر بأهل المصر لا بأس به كذا في التتارخانية."(فصل فی الإحتكار، ج: 3، ص: 213، ط: دار الفكر بيروت)
وفی الشامیة:
"(و) كره (احتكار قوت البشر) كتبن وعنب ولوز (والبهائم) كتبن وقت (في بلد يضر بأهله) لحديث «الجالب مرزوق والمحتكر ملعون» فإن لم يضر لم يكره."
(فصل في البيع، ج: 6، ص: 398، ط: سعيد)